صوبۂ سرحد کی حکومت اور صوبائی اسمبلی : عمومی جائزہ

سرحد اسمبلی کے منتخب ممبران کی تعداد 124 ہے جن میں 99 عام نشتیں، خواتین کے لیے 22 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے 3 نشتیں مختص ہیںـ صوبے کے وزیراعلی کا انتخاب گورنر کرتا ہے جو وزراء کی کابینہ تشکیل دیتا ہے جو حکومت کے مختلف محکموں کی نگرانی کرتے ہیںـ وزیراعلی صوبے کا چیف ایگزیکیٹیو بھی ہوتا ہےـ صوبہ سرحد کو انتظامی اعتبار سے 24 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے ہر ضلع کا ایک ضلعی ناظم ہے جس کی رہنمائی ضلعی رابطہ افسر کرتا ہےـ ضلع کی سطح پر مختلف امور انجام دینے کی ذمہ داری تحصیل ٹاؤن اور یونین کونسل گورنمنٹ کو سونپی جاتی ہےـ ہر ضلع کی ایک منتخب ضلعی کونسل منتخب تحصیل ہے ، ٹاؤن اور یونین کونسلیں اپنی اپنی سطح پر مختلف کاموں کی دیکھ بھال کرتی ہیںـ  ضلعی سطح پر نظم و ضبط اور امن و امان کی بحالی کی نگرانی ضلعی پولیس افسر کرتا ہے اور اس کی رپورٹ باقاعدگی سے ضلعی ناظم کو پیش کرتا ہےـ پولیس کے خلاف عوامی شکایات کو سننے کے لیے ہر ضلع میں ایک "کمیشن برائے عوامی تحفظ" بنایا گیا ہےـ یہاں پر متعین صوبائی پولیس افسر صوبائی سطح پر پولیس کے نظام کا انچارج ہےـ

مختصر تاریخ

1901 میں صوبہ سرحد کا انتظام و انصرام صوبائی چیف کمشنر کی عمل داری میں آگیا اور تقریبا 31 سال گزرنے کے بعد 1932 میں یہ صوبے کے گورنر کے زیر انتظام آگیاـ 1937 میں صوبہ سرحد میں گورنمنٹ آف انڈیا کے 1935 کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد سرحد کی مجلس قانون ساز تشکیل پائی ـ جس کا پہلا اجلاس 12 مارچ 1946 کو اس وقت کے چیئرمین سردار بہادر خان کی سربراہی میں منعقد ہوا، 13 مارچ 1946 کو اسمبلی کے پہلے اسپیکر نواب زادہ اللہ نواز خان اور ڈپٹی اسپیکر لالاگردھری لال منتخب ہوئے اس وقت اسمبلی کے ممبران کی تعداد 50 سے بڑھ کر 58 ہوچکی تھی ـ

Old NWFP Assembly Buildingپاکستان بننے کے بعد صوبہ سرحد کی قانون ساز کونسل کے پہلے انتخابات 15 دسمبر 1951 کو منعقد ہوئے اور 10 جنوری 1952 کو اسمبلی کا پہلا باقاعدہ اجلاس بلایا گیاـ جس میں منتخب ممبران نے حلف اٹھایا ، جناب نواب زادہ اللہ خان ایک مرتبہ پھر اسمبلی کے بلا مقابلہ اسپیکر اور خان محمد فرید خان ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئےـ

3 اکتوبر 1955 میں "ون یونٹ" کے تحت پاکستان دو صوبوں یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں تقسیم ہونے کے بعد مجلس قانون ساز کی عمارت کو پشاور ہائی کورٹ کا درجہ دے دیا گیاـ 1970 میں مغربی پاکستان کی علیحدگی کے بعد دوبارہ سرحد کی صوبائی اسمبلی بحال کردی گئی ـ ایک صدارتی حکم کے تحت ( جو 1970 کا لیگل فریم ورک آرڈ کہلایا ) مجلس قانون ساز کی جگہ صوبائی اسمبلی تشکیل پائی ـ

17 دسمبر 1970 کو صوبہ سرحد کی اسمبلی کے لیے عام انتخابات منعقد ہوئےـ اس وقت اسمبلی کی نشستوں کی مجموعی تعداد 43 تھی جن میں دو نشستیں خواتین کے لیے اور ایک نشت اقلیتوں کے لیے مختص تھی ـ اسمبلی کا پہلا باقاعدہ اجلاس 2 مئی 1972 کو "پاکستان اکیڈمی براۓ دیہی ترقی" یونیورسٹی ٹاؤن پشاور کے ہال میں منعقد ہواـ جناب محمد اسلم اور ارباب سیف الرحمن ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئےـ

5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد صوبائی اسمبلیاں ختم ہو گئیںـ 1985 کے انتخابات 28 فروری 1985 کو نمبرجماعتی بنیاد پر کرائے گئےـ

ان انتخابات کے بعد بننے والی پہلی اسمبلی کا اجلاس 12 مارچ 1985 کو بلوایا گیا جس میں منتخب نمائندوں نے حلف اٹھایاـ اس کے دو سال بعد یعنی 1987 میں اسمبلی سیکریٹریٹ ، "پاکستان اکیڈمی برائے دیہی ترقی" سے موجودہ اسمبلی کی عمارت میں منتقل ہوگیا-

نیچے دی گئی جدولی فہرست صوبہ سرحد کی اب تک منتخب ہونے والی اسمبلیوں کی مدت اور برسراقتدار جماعتوں کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کرتی ہےـ
 

نمبر شمار اسمبلی کی مدت حلف برداری کی تاریخ اسمبلی کی تحلیل ہونے کی تاریخ برسراقتدار جماعت
1. 1970 to 1977 02-05-1972 13-01-1977 جے یو آئی ، این اے پی اور پی پی پی
2. 1977 to 1977 06-04-1977 05-07-1977 پی پی پی
3. 1985 to 1988 12-03-1985 30-05-1988 آزاد
4. 1988 to 1990 02-12-1988 06-08-1990 پی پی پی
5. 1990 to 1993 05-11-1990 30-05-1993 پی ایم ایل این
6. 1993 to 1996 18-10-1993 12-11-1996 پی ایم ایل این، پی پی پی
7. 1997 to1999 19-02-1997 12-10-1999 ی ایم ایل این
8. 10-10-2004 25-11-2004    -------- ایم ایم اے

 

موجودہ صوبائی اسمبلی

2001 میں پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو نے 2002 کے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تعداد بڑھاکر 124 کردی جن میں عام نشستوں کی تعداد 99 ، خواتین کے لیے 22 نشستیں اور اقلیتوں کے لیے 3 نشستیں مختص کی گئیں ـ 10 اکتوبر 2002 کے عام انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کا پہلا اجلاس 27 نومبر 2002 کو بلایا گیاـ جناب بخت جہاں خان اس کے اسپیکر اور جناب اکرام اللہ شاہد ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز ہوئےـ ( تاہم بعد میں وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے ) 22 ستمبر 2003 کو جناب گستاپ خان ایوان کے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے منتخب ہوگئےـ

The new under construction building of NWFP Assembly

اسمبلی کی زیر تعمیر نئی عمارت